ذبيحة يا حلال (Urdu Article about Halal and Zabiha)

ZamZam Academy Content
This is an Urdu translation of the article called 'Zabiha-Meat Madness' which can be found at http://www.zamzamacademy.com/2013/03/zabiha-meat-madness/

 (مفتی عبدالرحمن ابن یوسف منگیرا (لندن

مترجم: فیضی نور احمد، علی گڑھ، یو.پی.، الہند

                                               بسم الله الرحمن الرحیم

اس میں  کوئی شک نہیں ہے کہ موجودہ  دور میں گوشت کے جائز یا ناجائز ہونے پر اکثر ممالک میں کافی شبہات گردش کرتے ہیں خاص طور سے مغربی ممالک میں. مگر جیسا کہ اب دیکھنے میں آ رہا ہے کہ ہندوستان میں بھی غزہ کے کئی ایسے مراکز کھل رہے ہیں کہ اس ملک کے مسلمان بھی اس مسئلہ کو لیکر  پریشان نظر آتے ہیں .

meatاس شش و پنج کو ہوا دینے کا کام کرنے میں کئی ایسی اصطلاحات کا دخل ہے جو اس طریقے میں رائج ہیں .

حلال اور زبیحہ

  ایک بار ایک شخص کے گھر کھانا کھاتے ہوئے امریکا کے ایک مہمان نے برطانیہ کے مہمان سے فرمایا کہ فلاں پکوان حلال ہے اور فلاں ذبیحہ . ان مہمان نے کبھی ذبیحہ کو اس سیاق و سباق میں سنا ہی نہیں تھا اور ظاہری معنی کے مطابق ذبیحہ کا مطلب ہوتا ہے ذبح کیا ہوا جانور ، تو مہمان کے دل میں خیال آیا کہ “کیا ہر حلال گوشت کسی خاص طریقے پر ذبح کیا گیا ہوتا ہے تو اس لحاظ سے تو ہر حلال گوشت ذبیحہ ہوگا یا ہر زیحہ حلال ہوگا ؟”

تب پھر کیوں ان جناب نے ایک کو ذبیحہ کہا اور دوسرے کو حلال؟ کیا اس سے مراد یہ ہے کہ ذبیحہ کے معنی کچھ اور ہوتے  ہیں ؟ یا کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ کوئی یہودی یا نصرانی اصطلاح ہو اور گوشت کسی غیر مسلم کی دکان سے خریدا گیا ہو ؟ یا یہ کوئی اونچے درجے کے حلال گوشت کی کوئی قسم ہے ؟

مجمع میں سے ایک شخص نے بتایا کہ کچھ لوگ ذبیحہ کا لفظ اس گوشت کے لئے استعمال کرتے ہیں جو کسی مسلمان نے ذبح کیا ہو. ایسا اس لئے کہ اس کو اہل کتاب کے گوشت سے فرق کر سکیں کیوں  کہ اس طرح کا گوشت حلال تو ہے مگر کسی مسلمان کے ہاتھ کا ذبح  نہیں.

گوشت اور اہل کتاب

اکثر عوام کا سمجھنا ہے کہ مغربی ممالک عیسائی ہیں.یہ خیال صحیح نہیں. حالاں کہ ان ممالک کی اکثریت عیسائی ہونے کا دعوه کرتی ہے لیکن سچ یہ ہے کہ ان کی عیسایت صرف چند رسم و رواج تک ہی محدود ہے. ریاستی سطح پر یہ ممالک واضح طور پر غیر مذہبی ہیں جو مذہب (چرچ)اور ریاست کو علیحدہ رکھنے میں یقین کرتے ہیں. ہمارے کچھ علماء جو ان حالات سے ناواقف ہیں کئی مرتبہ فتویٰ دے دیتے ہیں کہ مغربی ممالک میں گوشت جایز ہے اس دلیل پر کہ یہ عیسائی ملک ہیں. بلاشبہ عیسائی اور یہودی کا ذبح کردہ گوشت جائز ہے بشرطیہ کہ وہ انکی آسمانی کتابوں میں بتاۓ گئے طریقے پر ذبح کیا گیا ہو. کیوں کہ الله تعالیٰ نے اسے قرآن کریم میں جایز قرار دیتے ہوئے فرمایا :

الْيَوْمَ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ ۖ وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حِلٌّ لَّكُمْ وَطَعَامُكُمْ حِلٌّ لَّهُمْ ۖ(القران ٥:٥)

آج تمہارے لیے سب پاکیزہ چیزیں حلال کر دی گئیں اور اہل کتاب کا کھانا بھی تم کو حلال ہے اور تمہارا کھانا ان کو حلال ہے

مگر بلا تحقیق ان ممالک میں  گوشت خریدنا اور کھانااس وجہ سے کہ یہ عیسائی ممالک ہیں اور کہنا کہ ہم تو اہل کتاب کا گوشت کھا رہے ہیں ، یہ کھلی گمراہی ہے جو اصل حالات کی کم علمی کی وجہ سے ہے.

کسی دکان سے گوشت خریدتے وقت عام طور سے یہ جاننا ناممکن ہوتا ہے کہ گوشت کس کے ہاتھ سے ذبح کیا گیا ہے : یہودی، عیسائی، بودھ،بہائی ، ملحد یا پھر مسلمان، اور اگر فرض کر لیا جائے کہ پتا لگانے کا کوئی طریقہ ہے تو بھی وہ کئی مرحلوں سے ہوکر گزرتا ہے . ان سارے مراحل ک تفصیل درکار ہے جبک صحیح معلومات بہت دشوار ہے.

اگر ہم ایک موہوم سا اندازہ لگا بھی لیں کہ ذبح کرنے والا عیسائی یا یہودی ہے، تو بھی انکا اس طریقے پر  ذبح کرنا جو کہ من و عن ان کی آسمانی کتابوں میں بتایا گیا ہے بڑا ہی مشکل امر ہے جیسا کہ موجودہ  دور کے عیسائی اور یہود کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے.

اس کے علاوہ بےشمار ایسے واقعات اور چشمدید گواہوں کی جامع اطلاعات ہیں جن کا مطالعہ کرنے کے بعد پتا چلتا ہے کہ جانوروں کو بجلی کا جھٹکا لگاکر یا گولی مار کر مرنے کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے . اس سے پہلے کہ ان کے گلے پر چھری چلای جاۓوہ دم توڑ دیتے ہیں جسے مردار کہا جاتا ہے. حکومت کی طرف سے ملازمین لگاۓ جاتے ہیں جن کا کام اس طرح کی کوتاہیوں پر نظر رکھنا ہوتا ہے مگر یہ کام کس حد تک انجام دیا جاتا ہے یہ کوئی نہیں جانتا.

جو واضح طور سے حرام ہے اس میں تو کوئی شبہ ہے ہی نہیں مگر یہاں جو مسئلہ پیش اتا ہے وہ کافی مشکوک ہو جاتا ہے اور یہ شریعت کا قانون ہے کہ جب بھی کسی چیز کے جائز یا ناجائز ہونے کے فیصلے میں جھکاو شک کی طرف ہو تو فیصلے کو روک لیا جاتا ہے جب تک کہ کسی ایک فیصلے کی واضح دلیل نہ ثابت ہو جاۓ. جب بھی ہمارے سامنے کوئی ایسا مسلہ آے جس کے راستے میں غیر یقینی کیفیت کے بادل منڈلا رہے ہوں تو بہتر ہوتا ہے کہ احتیاط کو مدنظر رکھا جاۓ. حضور اکرم ص کا ارشاد مبارک ہے :

“اس کو چھوڑ دو جو تم کو شک میں ڈالے اس کے لئے جو شک میں نہ ڈالے” (سنن ترمزی)

ایک اور حدیث سے احتیاط اور تقویٰ اختیار کرنے کی نصیحت ملتی ہے:

“حلال واضح ہے اور حرام واضح ہے ،مگر ان کے درمیان مشتبہات ہیں جن کے بارے میں اکثر لوگ علم نہیں رکھتے ، بس جسنے اپنے آپ کو ان مشتبہات سے بچا لیا اسنے اپنے  دین اور اپنی  عزت کو بچا لیااور جو ان مشتبہات میں پڑ گیا  وہ حرام میں پڑ گیا ، جیسے کہ کوئی چرواہا اپنی بھیڑ بکری کسی دوسرے کی ذاتی چراگاہ کے ارد گرد چرا رہا ہو بہت ممکن ہے کہ جلد ہی وہ انہیں باڑے کے اندر بھی چرا دیگا.یقیناً ہر بادشاہ کی ایک ذاتی چراگاہ ہوتی ہے  اور الله کی ذاتی چراگاہ ہیں اس کی حرام کردہ چیزیں ” (صحیح بخاری)

لہذا ایسے معاملوں میں تقویٰ اختیار کرنا ہی سب سے بہتر ہے .

مسلمانوں کو سب سے بہتر کا مطالبہ ہونا چاہیے

مسلمانوں کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے ایمان کی طرف سے ذمداری اور الله تعالی کے سامنے احتساب کو یاد رکھتےہوئے  ہمیشہ بہتر کا مطالبہ کریں اور ناجائز اور تذبذب والے کھانے سے اجتناب کریں. آپ ص  نے فرمایا:

 “حرام رزق پر پلا ہوا جسم جنّت میں داخل نہ ہوگا ” (شعب الایمان )

پتا یہ چلا کہ یہ بڑا ہی سنگین معاملہ ہے ایک ایمان والے کے لئے. کچھ ممالک جیسے کہ زمبابوے کے مسلمان اس معاملے میں بڑے حساس رہے ہیں  جس کے نتیجے میں حلال گوشت کے کاروبار نے بہت ترقی کری ہے . میرے زمبابوے کے دورے پر مجھے جمیعت علماء کاؤنسل کے ایک رکن نے بتایا کہ زمبابوے میں یہ ضروری ہے کہ ہر گوشت کو اسلامی طریقے پر ذبح کیا جاۓ.

اس بات کے لئے کوشش ضروری ہے کہ ہم موجودہ طریقہ کار کی گہرای کو جانیں  اور اس پر اکتفا کرنے کے بجاے ہم بہتر کے طلبگار رہیں اور اس کے لئے ہر ممکن کوشش کو لازم کر لیں.

ہمیں طلب اور فراہمی کا تصوّر ذہین میں رکھنا چاہئے کیوں کہ اگر مطالبہ ہوگا  اور اگر طلب ہوگی تو رسد  اور فراہمی بھی ضرور ہوگی. انشااللہ اگر کثرت سے حلال رزق کا مطالبہ کیا جاےگا تو کوئی نہ کوئی الله کا بندہ ضرور کھڑا ہوگا جس کو الله تعالیٰ اس ضرورت کو پورا کرنے کا ذریعہ بنائیگا.

مگر اب تک جو ہوتا آیا ہے وہ یہ ہے کہ اکثر حلال گوشت کی دکانیں بند ہو گئی کیوں کہ مسلمانوں نے ان کی دستگیری  اور سرپرستی نہیں فرمائی، جس کی وجه وہی ہے کہ  لوگ اپنے قریبی اور آسانی سے دستیاب دوکان سے گوشت حاصل کر لیتے ہیں اور حلال گوشت کے پختہ ہونے کا یقین کرنے کا تردود نہیں کرتے جو کہ ایک خطرناک رجحان ہے.

اب ابتدائی مضمون میں جن اصطلاحات کا ذکر کیا گیا ہے اسکی طرف رجوع کرتے ہیں.کوئی بھی گوشت جو صحیح معنی میں حلال کہا جا سکتا ہے اور جسکو بغیر کسی  کراہت کے استمعال کیا جا سکتا ہے وہ صرف بھینس یا مرغ یا  دیگر  جانور کا ہی نہیں بلکہ اسکے علاوہ وہ بھی ہے جو امریکا میں ذبیحہ کہلاتا ہے  جسکے معنی، اگرچہ غیر درست، مگر یہ کہ  وہ اسلامی طریقے پر کھرا اترتا ہو.

اس سے مزید یہ بات نامعقول ، غیر منصفانہ اور ایک قسم کا بچپنا ہے کہ ذبیحہ کے خیال کو ہند و پاک کی منگھڑت بات قرار دے دیا جائے جیسا کہ عام طور پر کئی خوش فہم حضرات کا ماننا ہے.

اگر آپ شام ،ترکی، یمن،ملیشیا اورمغربی افریقہ کا معاینہ کریں تو آپ پاینگے کہ وہ بھی حلال گوشت کے مسلے کو بڑی سنجیدگی سے لیتے ہیں. ذبیحہ گوشت کھانا یا ہمیں کہنا چاہئے حلال گوشت کھانا  ہر مسلمان پر فرض ہے.

ہماری ذمےداری

ایک غیر مسلم ملک میں رہنے والے مسلمان کے طور پر ہماری ذمےداری کیا ہونی چاہئے؟ ایسے مواقع پر کیا کرنا چاہئے جب ہمارے رشتےدار یا دوست و احباب دعوت پر مدعو کریں اور حالات یہ ہوں کہ وہ اپنی کھانے کی عادتوں پر زیادہ توجّہ نہ دیتے ہوں؟ کیا ہمیں میزبان سے استفسار کرنا چاہئے کہ گوشت کو کس جگہ سے حاصل کیا گیا ہے؟ اسکا ذریعہ کیا ہے؟

کئی لوگ بڑا عمدہ جواز پیش کرتے ہیں کہ مسلمان کے گھر کھانے پر بہت زیادہ شک کرنا ایک شکی طبیعت کا مظاہرہ ہے جو دلوں کے درمیان بے اعتمادی کا باعث بنتا ہے.لہذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ اپنے مسلمان بھائی سے خوش گمانی کا معاملہ رکھے.

لیکن اس کا یہ مطلب تو نہیں ہوا کہ مسلمان کوتاہ اندیشی اور لاپرواہی کا شکار ہوتے ہوئے حد سے گزر جایں. اگر اسلام کے کسی امر میں بےخبری اور الجھن عام ہے تو کیا مسلمانوں کا یہ فرض نہیں بنتا کہ وہ پرہیزگاری اور احتیاط سے کام لیں حتیٰ کہ ہم کہیں اپنی کم علمی کی بنیاد پر کوئی غلط قدم نہ اٹھا بیٹھیں جو دنیا اور آخرت میں ہماری پکڑ کا سبب بن جاۓ.

گوشت کے منبع کے بارے میں سوال کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی اگر ہمارے پاس بےپناہ قابل یقین ثبوت ہوتےکہ فلاں گروہ یا مسلمان پختہ اسلامی طریقے پر جانور ذبح کرتے ہیں.

مگر جب حال یہ ہو کہ ان قوانین  پر عمل پیرا ہونے میں بالکل بےخبری ہو یا بہت  بے پرواہی ہو ، جب ایک قوم حلال اور ذبیحہ میں فرق ہی نہ کر سکے اور جب گوشت کے جائز یا ناجائز ہونے کی رایں بھی اتنی ہوں جتنے کہ راۓ دینے والے . تو ہم یہ کیسے مان سکتے ہیں کہ مسلمان جو گوشت استعمال کر رہا ہے وہ بلاشبہ از روۓشرع ہے یعنی شرعی طور سے جائز ہے. اس تنبیہ کا مقصد مسلمان کے ارادوں پر چوٹ کرنا نہیں ہے. جب بھی ہو سکے ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کے بارے میں خوش گمان ہی رہنا چاہئے، کیوں کہ ایک مسلمان اپنے بھائی کو دانستہ ناجائز گوشت یا کوئی دیگر شی پیش نہیں کریگا.

یہ بات قابل تسلیم ہے کہ اس موضوع پر علماء کی کتب کی بہت حد تک کمی ہے جو عوام کو اس مسلے سے آگاہی بخشے. بہرحال ، جب تک عوام اس مسلے پر بیدار نہ ہو جایں تب تک  احتیاط کو ملحوظ خاطر رکھنے کی ضرورت ہے اور گوشت حاصل کرنے کے ذرائع کے بارے میں  جانکاری دینا اور دریافت کرنا ضروری ہے.

کچھ لوگ اس دعوے کے رد میں قرآن کی یہ آیت پیش کرتے ہیں :

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِن تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ   (القران ٥:١٠١)

مومنو! ایسی چیزوں کے بارے میں مت سوال کرو کہ اگر (ان کی حقیقتیں) تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں بری لگیں

اس آیت سے استدلال کرتے ہیں کہ کھانے پینے میں تحقیق  اور سوال کرنا بھی منع ہے.  حالانکہ اس آیت کو جب ہم اس سیاق و سباق میں دیکھیں گے تو  ہم کو معلوم ہوگا کہ اس آیت کی گہرائی کو ہم اپنی محدود عقل اور کم علمی کے باعث صحیح طور پر سمجھ نہیں رہے. اس آیت کے اسباب نزول میں اتا ہے کہ یہ آیت جب نازل ہوئی تھی جب کچھ صحابہرض نے چند سوالات پوچھے جنکے جوابات سے انکو کوئی فایدہ نہ ہوتا بلکہ غم کا زیادہ امکان تھا . لہذا آپ ص نے نارازگی کا اظہار کیا. چنانچہ الله تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی اور صحابہ رض نے مستقبل میں ایسے سوالات سے اجتناب کیا. تفاسیر میں ایسے کئی واقعات درج ہیں.

مگر اس کے برخلاف آج کے دور میں جب ہم میں سے اکثر لوگوں کو شریعت کا علم نہیں ہے تب بھی ہم ایسے مسلوں کو جاننا ضروری نہیں سمجھتے، چاہے یہ کتنا ہی فائدےمند کیوں نہ ہو. ایک مسلمان کے لئے یہ ضروروی ہے کہ وہ مکمّل طور سے تفتیش کرے ، ساتھ ہی اس بات کا بھی خیال رکھے کہ بہت زیادہ وہم کا شکار نہ ہو جاۓ.

اس کے علاوہ گوشت کو حلال کرنے کے لئے فقط بسم الله کہنا  ہی کافی نہیں .اس ضمن میں جو قول نقل کیا جاتا ہے، علماء فرماتے ہیں کہ وہ اس وقت کی طرف اشارہ کرتا ہے جب لوگوں کو علم تھا کہ جو گوشت ہم کھا رہے ہیں وہ صحیح اسلامی طریقے پر ذبح کیا گیا ہے.اسی وجہ سے آپ ص  نے تعلیم دی کہ ایسے حالت میں  زیادہ پوچھ گچھ کرنے کہ ضرورت نہیں بلکہ گوشت پیش کرنے والے کے بارے میں اچھا گمان رکھنا چاہئے. جہاں تک اس حکم کا سوال ہے کہ “الله کا نام لیکر کھاؤ”اور “الله کے نام پر ذبح کیا ہوا جانور ہی حلال ہے” تو اسکا مطلب یہ تو نہیں ہے کہ فقط  الله کا نام لینے سے الله کا حرام کردہ یا ناجائز طریقے پر ذبح کیا ہوا جانور حلال ہو جاےگا. ایک مسلمان کو تو کچھ بھی کھانے سے پہلے الله کا نام لینا ہی ہے ساتھ ہی اس بات کا بھی خیال رکھنا ہے کہ الله عزووجل کے حدود پامال نہ ہونے پایں. عملی طور پر یہ اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے کہ گوشت کتنا قابل اعتماد ہے اور تفتیش کے لئے بھی احن طریقہ اپنانا چاہئے.

مدعو کیا کرے؟

اگر آپ کو آپکے عزیزکھانے کی دعوت دیں جسکے کھانے میں شک ہو  تو  آپ کیا کر سکتے ہیں:

١-  اگر ممکن ہو تو سیدھے میزبان کے پاس جاکر بہت نرمی اور محبت سے گوشت کے بارے میں معلومات کر لیں اور ساتھ ہی میزبان کے طریقےکار پر کسی بھی طرح کی کوئی تنقید نہ کریں. میزبان سے یہ بھی کہ سکتے ہیں کہ آپ کو گوشت سے رغبت نہیں ہے حتیٰ کہ آپ سبزی یا مچھلی بھی پسند کرینگے. ایسے میں  آپ میزبان کو چند معتبر دکانوں کے نام بھی بتا سکتے ہیں. اس کے علاوہ میزبان کو یہ احساس دلاۓ کہ آپ ان کی دعوت قبول کرکہ بہت خوش ہیں اور آپ کے لئے سب کا ساتھ جمع ہونا اہمیت رکھتا ہے نہ کہ دعوت کا کھانا.

٢- ہو سکتا ہے کہ مہمان کا میزبان سے اتنا بےتکلفی کا تعلّق نہ ہو کہ وہ میزبان سے سوال کر پاۓ تو ایسی حالت میں میزبان کے کسی قریبی سے یہ معلوم کر لیں کہ حضرت گوشت کہاں سے لیتے ہیں. جہاں تک ہو سکے یہ بات بہت ہی احسن طریقے سے پوچھنی چاہئے جس سے کہ کوئی بدمزگی نہ ہو جاۓ.

٣- آپ میزبان سے گوشت خود خرید کر لا دینے کہ پیشکش بھی کر سکتے ہیں . تھوڑی محنت زیادہ ہے پر بہت نفع بخش ہے.

یہ سب تدابیر آپکو   دعوت قبول  کرنے سے قبل ہی انجام دینی ہونگی. کسی بھی حال میں یہ نہ کریں کہ دعوت والے روز  جاکر کوئی ہنگامہ کھڑا کر دیں  کیوں کہ یہ انتہائی شرم ناک ہوگا.

حلال گوشت کی دکان کی تلاش

 ایک اور بات جو اس مسلے میں پریشان کرتی ہے وہ ہے حلال گوشت کی دکان ، ہوٹل وغیرہ کی تلاش کرنا.اکثر ایسے واقعات سننے میں اتے ہیں کہ جن میں بڑی بڑی دکانوں سے بےایمانی اور بددیانتی کی خبریں ملتی ہیں. اس سے بچنے کے لئے کچھ تدابیر ہیں:

١- جتنا جلد سے جلد ہو سکے کسی متقی اور پرہیزگار شخص سے  مل کر کسی خاص دکان کے بارے میں جان لیں جہاں سے وہ گوشت خریدتے  ہوں.

٢- دکان کے مالک سے جاکر بات کریں . عام طور سے وہ آپکی پوری مدد کرنے کو تیار رہتے ہیں اور ہو بھی کیوں نہ جب وہ کچھ غلط نہیں کر رہے.ساتھ ہی ایسے سوالات کے جواب دینے میں مدافعت سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ سامنے والا کتنا سچ بول رہا ہے.

اگر وہ کہیں اور سے گوشت لیتے ہوں  تو اس کا پتا معلوم کریں اور کسی عالم سے اس کے بارے میں جاننے کی کوشش کریں. کچھ دکان والے ایسا بھی کرتے ہیں کہ گوشت کا کچھ حصّہ تو کسی معتبر دکان سے لیتے ہیں جس سے انکو سرٹیفکیٹ حاصل کرنے میں آسانی ہوتی ہے . اس کے بعد جہاں سے انکو سہولیت ہوتی ہے وہیں سے گوشت لے لیتے ہیں بغیر یہ دیکھے کہ وہ حلال ہے بھی یا نہیں.

٣- کئی ایسی تنظیمیں بھی ہیں جو سرٹیفکیٹس مھییا کرتی ہیں. ایسی تنظیموں پتا لگایا جا سکتا ہے کہ فلاں دکان یا ہوٹل حلال گوشت بیچتا ہے یا نہیں.

٤- کئی بڑی کمپنیاں اپنے خود کے سرٹیفکیٹ مھیا کرتی ہیں جن پر تحقیق کے بعد یقین کیا جا سکتا ہے. مگر ساتھ ہی ایسے مبہم اور غیر واضح بیان سے خبردار رہنا چاہئے جیسے کہ”اسلامی رسم پر ذبح کیا ہوا” کیوں کہ یہ کوئی بھی غیر معتبر طریقہ ہو سکتا ہے. ان کے ذہین میں اسلامی رسم کا کیا تصوّر ہے آپکو کیا معلوم؟ یا پھر کبھی یہ بھی لکھا ہوتا ہے”مشین سے الگ کیا ہوا”. تو یہ بھی مشین سے ہی ذبح ہوتا ہے نہ کہ ہاتھ سے.

٥- اگر ممکن ہو تو کچھ لوگ ملکر کسی فارم کے مالک سے بات کر لیں کہ وہ آپکو جانور بیچ دے جسے آپ خود یا پھر کسی معتبر جگہ سے ذبح کروا سکتے ہیں.

یہ بات واضح ہے کہ اس مسلے کو سمجھنا تھوڑا دشوار ہے مگر ساتھ ہی ساتھ یہ اتنا ہی سنجیدہ بھی ہے. اگر کسی کی اپنی پوری تحقیق کے باوجود بھی گوشت وہ نہیں نکلتا جس کا دعوه کیا جا رہا ہے تو اس کا وبال دھوکہ دینے والے پر ایگا.

یقیناً الله تعالی بہت معاف کرنے والے ہیں مگر ساتھ ہی وہ یہ چاہتے ہیں کہ اس کے بندے اپنی پوری محنت اور کوشش کرتے ہوئے اپنی پوری زم داری نبھایں.اس کے نتیجے میں ہم یہ امید کر سکتے ہیں کہ الله تعآلی ہماری ان کوتاہیوں کو کر دینگے جو ہماری قدرت سے ماوری ہیں.

ماضی کا کیا؟

اگر ماضی میں کسی کے ساتھ ایسی بدقسمتی پیش آ چکی ہے کہ اس نے حرام گوشت کھایا ہو اس وجہ سے کہ اس کو اس مسئلے کا علم نہ تھا ، تو ایسے شخص کے ذہین میں سوال اٹھتا ہے جو روحانی اور ذہنی اذیّت کا موجب بنتا ہے.

وہ سوال ہے کہ  اب جبکہ خطا ہو ہی گئی ہے تو کیا اب فی الحال اور مستقبل میں ایسا گوشت کھانے سے اجتناب کرنا چاہئے؟

جواب تو یقیناً ہان ہی ہے لیکن کئی اور باتوں کہ طرح یہ مسئلہ  اتنا آسان نہیں ہے.

اس بات کا علم ہو جانا کہ اب تک میں جو کام یہ سوچ کر انجام دے  رہا تھا کہ اس میں کوئی غلط بات نہیں ہے جبکہ اصلیت میں تو میرا یہ کام عذاب الہی کو دعوت دینے والا کام تھا ، یہ بہت ہی نہ امیدی اور مایوسی کا سبب بن جاتا ہے. اس میں کوئی تعجّب کی بات نہیں کہ کسی بھی مخلص مسلمان کو یہ احساس  ہوتا ہے  تو وہ یہ سوچتا ہے کہ شاید اب اس کے لئے توبہ کے سارے دروازے بند ہو چکے ہیں اور اب رجوع الی الله کا کوئی سوال نہیں.

مگر حقیقت میں اس سوچ کے بر خلاف جو کوئی بھی  چاہے کتنا ہی گنہگار کیوں نہ ہو  الله کے اس ارشاد سے تسلّی و تشفّی  کر سکتا ہے جو الله تعآلی نے قرآن کریم میں فرمایا ہے:

قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ         ۝ وَأَنِيبُوا إِلَىٰ رَبِّكُمْ وَأَسْلِمُوا لَهُ مِن قَبْلِ أَن يَأْتِيَكُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنصَرُونَ          ۝ (القرآن ٣٩: ٥٣- ٥٤)

اے پیغمبر میری طرف سے لوگوں کو) کہہ دو کہ اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہونا۔ خدا تو سب گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ (اور) وہ تو بخشنے والا مہربان ہے. اور اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آ واقع ہو، اپنے پروردگار کی طرف رجوع کرو اور اس کے فرمانبردار ہوجاؤ پھر تم کو مدد نہیں ملے گی

ہمیں اپنے آپ کو شیطان کے بہکاوے میں نہیں آنے دینا ہے کیونکہ وہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم ایسی حد کو پار کر کے چلے ہیں کہ اب واپسی کا راستہ نہیں.

اگر کوئی شخص ہے جو ہمارے لئے پروردگار کی رحمت کے دروازے بند کر سکتا ہے تو وہ ہیں ہم خود. جب تک ہم الله  تعألی سے مغفرت طلب کرتے رہینگے  الله تعألی ہماری فریاد  سننے کے لئے ہمیشہ موجود رہتے ہیں . اگر آپ الله سے پیار کرتے ہیں تو الله بھی تو آپ سے پیار کرتے ہیں.

جس کسی نے بھی ماضی میں کوئی غلطی کی ہو وہ الله کی رحمت سے اسکی تصحیح کر سکتاہے اور اپنے گناہوں کو سچی توبہ سے ایسے دھو سکتا ہے جیسے وہ گناہ کبھی تھے ہی نہیں. الله کی رحمت سے مسلمان کو کبھی بھی مایوس نہیں ہونا چاہئے. لہذا ہم کو چاہئے کہ  الله کی رحمت کی طرف رجوع کریں اور سچی توبہ کریں اور اپنے گناہوں پر ندامت اور پشیمانی محسوس کریں ، ساتھ ہی یہ بھی عهد کریں اب مستقبل میں دوبارہ اس غلطی کی طرف کبھی رجوع نہیں کرینگے.

فيا رباه عبد تائب من ذا سيؤوينی

سوى رب غفور واسع للحق يهديني

أتيت إليك فارحمني وثقل في موازيني

وخفف في جزائي أنت أرجى من يجازيني

والله اعلم

© وائٹ تھریڈ پریس . تمام حقوق محفوظ.

تحریر: مفتی عبدالرحمن ابن یوسف منگیرا (لندن)

اردو ترجمہ: فیضی نور احمد

Written By
More from Admin Read More

1 Comment

Comments are closed.